کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا جن کی ماں نہیں ہوتی ان کے لیے دعاکون کرتا ہے

میں اور میری ماں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے میرے والد صاحب فوت ہو چکے تھے لہذاز ند گی کی گاڑی چلانے کے لئے میری ماں کو اسکول کی کینٹین میں صبح سے لے کر اسکول بند ہونے تک سخت کام کر ناپڑتا تھا

میری ماں کے کپڑے بھی اتنے اچھے نہ ہوتے تھے لیکن یہ میرے لئے کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ مجھے اپنی ماں سے کسی اور بات پر سخت نفرت تھی وہ یہ کہ میری ماں کی ایک آنکھ نہیں تھی

اس وجہ سے مجھے میری ماں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی پھر دوسری طرف سکول کے بچے بھی مجھے یہ کہہ کر اکثر چڑھاتے تھے کہ تمہاری ماں تو ایک آنکھ سے کافی ہے جس سے مجھے بہت غصہ آتامیرے دل میں ماں کے لیے نفرت بڑھتی گئی

میں ماں سے بات بات پر لڑتا تھا جب کہ میری ماں مجھ سے بے حد محبت کرتی تھی ماں پڑھائی کے معاملے میں مجھے ہر وہ سہولت مہیا کر تی جو دوسرے بچوں کو حاصل تھی کچھ عرصہ گزرا تو میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اٹلی آ گیا

میری ماں جیسے کیسے میرا خرچہ برداشت کرتی رہی لیکن میری نفرت با قاعد و برقرار رہی پانچ سال کی پڑھائی کے بعد اعلی ڈگری لے کر میں اپنے ملک واپس آ گیا ایک ہفتے میں ہی مجھے ایک اچھی جاب مل گئی اور میں اپنی ماں سے بالکل قطعہ تعلق ہو گیا

میری ماں کو بہت رنج ہوا مگر مجھے اس کی کوئی پر واہ نہیں تھی میں نے شادی کر لی اور میرے دو بچے بھی ہو گئے میں نے اپنی ذاتی گھر خرید لیا تھا پانچ سال گزر گئے میں اپنی ماں کو بالکل بھول چکا تھا ایک دن اچانک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی

میں نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی تھی میری بیوی اور بچے حیرانی سے میری پیچھے کھڑے ہو کر بولے یہ عورت کون ہے جب کے مجھے بے حد غصہ آگیا میں نے ماں کو ایک انجان عورت سمجھ کر کہا کہ یہاں کیوں آئی ہو کیا میرے بچوں کو ڈراناچاہتی ہے

اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا وہ معافی چاہتی ہے شاید وہ غلط گھر میں آگئی ہے اس کے بعد وہ چلی گئی تھوڑا وقت گزرا پتہ نہیں کیوں ایک دن جاب سے واپسی پر میں اپنی ماں کے گھر کی طرف چلا گیا

ماں گھر پر نہیں تھی پڑوسی مجھے دیکھ کر باہر آیا اور کہنے لگا تمہاری ماں پکچھ دن پہلے فوت ہو گئی ہے پھر کہا اچھاہواہوا تم آگئے یہ لو تمہاری ماں تمہارے لیے ایک خط چھوڑ گئی ہے میں نے خط لیا اور پڑھنا شروع کیا پیارے بیٹا ہمیشہ سلامت اور خوش رہو

مجھے پتا ہے کہ تم مجھ سے میری آنکھ کی وجہ سے ساری زندگی نفرت کرتے رہے لیکن سنو بیٹا تم بہت چھوٹے تھے کہ تمہارے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے تمہاری ایک آنکھ بلکل ضائع ہو گئی جس کا مجھے بہت دکھ ہوا میں نے تمہیں اس طرح نہیں دیکھ سکتی تھی

لہذا میں نے اپنی ایک آنکھ تم کو دے دیں تاکہ میر ابیٹا دونوں آنکھوں سے دیکھ سکے اگر یہ میرا جرم تھا تو بیٹا مجھے معاف کر دینافقط تماری ماں یہ خط پڑھ کر مجھے میری ماں بہت یاد آئی مجھے ایسا لگا جیسے میری دنیا تباہ بر باد ہو گئی ہو دل چاہتا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں غرق ہو جاؤں

آج تیس سال گزر گئے ہیں میری بیوی اس دنیا سے جاچکی ہے میں اپنے گھر میں اکیلار ہتاہوں کیونکہ میرے بچے اب باہر ملک رہتے ہیں مجھے ہر مہینے خرچ بھی بھیج دیتے ہیں شاید یہ ہی مقافات عمل ہے بس ایک ہی بات سوچتاہوں

شاید ماں تو مجھے دنیا میں ہی معاف کر گئی ہو لیکن قیامت کے دن اللہ تعالی کاسامنا کیسے کروں گا

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ی ارشاد ہے کہ میں سب سے بڑا گناہ کبیرہ ہے کہ کوئی انسان اپنے ماں باپ کو بد دعادے

میں نے ایک بزرگ سے پوچھا جن کی ماں نہیں ہوتی ان کے لئے دعا کون کرتا ہے بزرگ فرمانے لگے بیٹادر یا گر سوکھ بھی جاۓ توریت سے نمی نہیں جاتی ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی

ماں تو اولاد پر قربان ہو جایا کرتی ہے ماں کی محبت ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلندیوں کو آج تک نہ کوئی مچوسکااور نہ چھو سکے گا

ماں ایسالفظ ہے جو دونوں ہونٹوں کے ملاۓ بغیر ادانہیں کیا جاسکتامیری ماں نے مجھے بتایابیٹاجب تو پہلی بار بولا تھاتو میں چلا اٹھی تھی اور اب تو جو بولتا ہے تو سہم جاتی ہو ڈر جاتی ہوں مر جاتی ہوں

صرف دولوگ مقدر والے ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں وفادار دوست ملتے ہیں اور دوسراوہ جن کے ساتھ ماں کی دعائیں ہوتی ہیں عمر کوئی بھی ہو چوٹ لگنے پر پہلا لفظ منہ سے ماں ہی نکلتا ہے

استاد نے مذاق میں کہا کوئی ہے جو جنت سے مٹی لا سکے دوسرے دن ایک بچہ تھوڑی ی مٹی سی چیز میں ڈال کر لے آیا اور بولا استاد جی آپ نے کل جنت کی مٹی مانگی تھی

استاد اور پوری کلاس کے بچوں نے حیر انگی کے ساتھ پوچھا یہ کہاں سے لاۓ ہو اس بچے نے بہت ہی محبت بھرے لہجے بلا میں کہاماں کے قدموں کے نیچے سے

ماں وہ ہستی ہے جس کے ہونے سے رحمتیں برستی ہیں یا اللہ پاک میری امی جان کی سب تکلیفیں دور فرما آمین ! ماں کا حق ادا کر تے رہا کرو قسم ہے اللہ کی ! اگر تم اپنا گوشت کاٹ کر اسے دے ڈالو تب بھی اس کا چوتھائی حق ادانہ ہو گا

ماں سچ کہا کرتی تھی کہ فکر میں انسان کو بوڑھا کر دیتی ہیں دنیا کی ہر ماں کو بچی ہوئی روٹی اور بچاہواسالن صرف اس لیے پسند ہوتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو تازہ کھاناملے

اباجان مجھے مارتے تھے توامی بچالیتی تھی ایک دن میں نے سوچا کہ اگر میں پٹائی کرے گی توا باجی کیا کر میں گے یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے میں نے امی کا کہا نہ ماناانہوں نے کہا که بازار سے دہی لادو میں نہ لایا

انہوں نے سالن کم دیا تو میں نے زیادہ پر اصرار کیا انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھاؤ میں نے زمین پر دری بچھائی اور اس پر بیٹھ گیا کپڑے میلے کے لیے میرالہجہ بھی گستاخانہ تھا کر مجھے پوری توقع تھی کہ امی جان ضر ور مار میں گئی

مگر انہوں نے کیا یہ کہ مجھے سینے سے لگا کر کہا کیوں میر ابیٹا میں صدقے اپنے شہزادے کے بیمار تو نہیں ہے تو اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے کہ ماں اپنی اولاد سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.